Khabren News.com

Be Updated

یوم علیؓ پرسندھ حکومت کے بعد پنجاب کے پی بلوچستان میں بھی جلوسوں پر پابندی

عالمی وبا کرونا وائرس کے باعث سندھ کے بعد پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی یوم علیؓ کے موقع پر جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے

بلوچستان

سندھ حکومت کے بعد بلوچستان میں یوم علیؓ کے جلوسوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے محکمہ داخلہ نے نوٹی فیکیشن جاری کردیا ہے۔ اس سے پہلے کرونا کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات کے طور پر پنجاب اور خیبر پختونخوا نے بھی یوم علیؓ کے جلوسوں پر پابندی لگادی تھی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے میں مذہبی اجتماعات پر پہلے ہی پابندی عائد ہے، وفاقی حکومت نے بھی مذہبی اجتماعات کی اجازت نہ دینے کی ہدایت کی ہے

وفاق

ادھر وزارت داخلہ نے تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور کمشنر اسلام آباد کو مراسلہ بھیج کر کہا تھا کہ تراویح، رمضان کے آخری عشرے اور عید کی نماز پر بھی ایس او پیز کا اطلاق ہوگا، تمام صوبائی حکومتیں طے کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ وفاق کی جانب سے بھی مذہبی جلوسوں کی اجازت نہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ معاملے پر علماء کو اعتماد میں لیں اور صورت حال سے آگاہ کریں

خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا میں بھی محکمہ انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق یوم علی رضی اللہ تعالی عنہ کے جلوسوں سے کرونا وبا کے مزید پھیلاؤ کے خدشات ہیں۔ اس لئے پابندی عائد کی جارہی ہے، تاہم امام بارگاہوں کے اندر سماجی فاصلے اور ایس اوپیز کا خیال رکھتے ہوئے مجالس کی اجازت ہوگی

پنجاب میں بھی پابندی

وفاقی وزارت داخلہ کی ہدایات کی روشنی میں پنجاب حکومت نے رمضان کے آخری عشرے اور یوم علؓی کے موقع پر صوبہ میں ہر قسم کے جلوس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ جاری کردہ مراسلے کے مطابق ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرتے ہوئے امام بارگاہوں اور گھروں میں مجالس کی مشروط اجازت ہوگی۔ انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ مجالس میں وقت کی پابندی پر عمل کرائے۔ مام بارگاہوں میں مجالس کا انعقاد صاف فرش پر کیا جائے گا اور قالین نہیں بچھائے جائیں گے تاہم پختہ فرش نہ ہونے کی صورت میں قالین بچھایا جا سکتا ہے۔ مجالس کے آغاز اور اختتام پر ہجوم کے اکٹھا ہونے کی اجازت نہیں ہوگی اور امام بارگاہ میں صحن موجود ہونے کی صورت میں مجلس ہال کی بجائے صحن میں منعقد کی جائے

اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچے، 50برس سے کم عمر اور بیمار افراد کی مجلس میں شرکت کی ممانعت ہوگی اور مجلس صرف امام بارگاہ کی چار دیواری کے اندر منعقد کی جائے گی اور اس سے پہلے فرش کو کلورین سے دھویا جائے گا۔ ایس او پی کے مطابق مجلس سے قبل قالین پر بھی کلورین کا اسپرے کیا جائے اور شرکاء اور قطاروں کے درمیان کم از کم 6 فٹ کا فاصلہ ہو۔ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے ذمہ دار افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے، شرکاء کی سہولت کیلئے امام بارگاہ کی انتظامیہ فرش پر افراد کی بیٹھنے کی جگہوں پر نشان لگائے، مجلس کے شرکاء وضو گھر سے کر کے آئیں، ہر کسی کیلئے ماسک، دستانے پہننا لازمی ہوگا، ہاتھ ملانے اور بغل گیر ہونے سے پر ہیز کیا جائے

نوٹٰی فیکیشن کے مطابق لاؤڈ اسپیکر کی اجازت صرف اور صرف پنجاب ساؤنڈ سسٹم ایکٹ 2015 کے تحت ہوگی۔ علاوہ ازیں یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ امام بارگاہوں میں اجتماعی افطاری اور سحری کا کوئی انتظام نہیں ہونا چاہئے، امام بارگاہوں کی انتظامیہ صوبائی، ضلعی حکومتوں اور پولیس سے قریبی رابطہ رکھے۔ کوویڈ 19سے متعلق ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو مجالس کے انعقاد کی مشروط اجازت ہوگی اورایس او پیز پر عمل نہ ہونے کی صورت میں مجالس کی انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا

Please follow and like us:

Corona Virus Current Status in Pakistan

Follow all SOP. Keep social distancing, Wear mask