Khabren News.com

Be Updated

ہائی کورٹ نے کہا, جیلوں میں گنجائش سےزیادہ قیدیوں کی موجودگی غیرآئینی قرار،

اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی غیر آئینی قرار دے دی ۔ حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے ١٥ سے زائد ہدایات جاری کردی گئیں، جیل میں ہراساں کیے جانے پر قیدی حکام اور ریاست پر ہتک عزت کا دعویٰ بھی کرسکتا ہے ۔ دوسری جانب وزارت انسانی حقوق نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے۔

قیدیوں کے حقوق سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑھا فیصلہ آگیاہے۔ عدالت نے دو ٹوک کہہ دیا کہ جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی رکھنا غیرآئینی ہے،بنیادی انسانی حقوق اورانصاف تک رسائی نہ ہونا ریاست کے وعدوں کے برعکس قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ جیل میں ہراساں کیے جانے پر قیدی ، جیل حکام اور ریاست پر ہتک عزت کا دعوی کرسکتا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ٣٠ سے زائدصفحات پر مشتمل فیصلے میں 17 ہدایات بھی دے دی ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت فوری طور پر قیدیوں سے متعلق قوانین فعال بنائے اورغریب قیدیوں کی مفت قانونی معاونت کے لیے اقدامات کرے۔

اسلام آباد میں جیل کی تعمیر، پراسیکیوشن برانچ  بنانے اور اڈیالہ جیل کے قیدیوں کی سہولیات سے متعلق رپورٹ رجسٹرار کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے, قیدیوں کے حقوق پرعمل درآمد کمیشن سے ہر ماہ کی ٣٠تاریخ کو پیشرفت رپورٹ طلب کرلی اور یہ بھی کہا کہ عوامی آگاہی کیلئے صوبائی حکومتوں کومیڈیا نمائندوں کو بھی جیلوں میں دورے کی اجازت دی جائے۔

دوسری جانب وزارتِ انسانی حقوق کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بلوچستان کےعلاوہ تینوں صوبوں کی جیلوں میں گنجائش سے کئی ہزار زائد قیدی موجود ہیں, جبکہ چاروں صوبوں کی جیلوں میں ڈاکٹرز کی درجنوں آسامیاں خالی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کرونا سے بچاؤ کیلئے جیلوں میں٥٠سال سے زائد عمر کے قیدیوں کو الگ کردیا گیا ہے۔

Please follow and like us:

Corona Virus Current Status in Pakistan

Follow all SOP. Keep social distancing, Wear mask