Khabren News.com

Be Updated

گندم،چاول سمیت دیگراشیائے خورونوش کی برآمد پر پابندی کا مطالبہ: سندھ چیف منسٹر

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوڈ سیکیورٹی پلان کے تحت گندم، چاول اور دال جیسی اشیائے خور و نوش کی برآمد پر پابندی عائد کرے، ورنہ ہمیں سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، معیشت زندہ ہوسکتی ہے، کرونا سے جاں بحق افراد نہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت رابطہ کمیٹی کے ویڈیو لنک اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گندم، چاول اور دالوں جیسے کھانے پینے کی اشیاء کی برآمد پر پابندی عائد کی جانی چاہئے، ان دنوں گندم کی فصل سرپلس ہوسکتی ہے مگر رواں سال کی مقامی ضروریات اور آئندہ سال کی فصل کیسی ہوگی؟، اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکا، ہمیں ہنگامی بنیادوں پر تیاریوں کا آغاز کرنا چاہئے اور فیصلہ لینے سے قبل ہر چیز کو مدنظر رکھنا چاہئے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو کھانے پینے کی اشیاء کی قلت خارج از امکان نہیں، ایسی صورتحال میں درآمدی فوائد برآمد کرنے سے زیادہ مہنگے ثابت ہوں گے، ہمیں اس نازک وقت پر اپنے وسائل پر انحصار کرنا ہے اور ہمیں اپنے فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔

کورونا وائرس کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ میں مثبت کیسز میں اضافہ ہوا ہے، نازک صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے 14 دن کا ایک اور لاک ڈاؤن چاہتے ہیں، اسے قومی سطح پر منظور کرلیا جائے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ فیصلہ وزیراعظم کو لینا چاہئے اور اس کا اعلان کرنا چاہئے، تمام صوبے اس فیصلے پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل کریں گے، انہوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ ان کی حکومت فی خاندان 12000 روپے نقد دے رہی ہے، ادائیگی اس لحاظ سے مشروط ہونی چاہئے کہ وصول کنندہ کو کم از کم 14 دن تک گھر میں رہ کر لاک ڈاؤن کی پابندی کرنی ہوگی۔

وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو بتایا کہ صوبائی حکومت اپنے وسائل سے کووڈ۔19 کے ٹیسٹ کے اخراجات پورے کررہی ہے، ہم 90 فیصد سے زیادہ ٹیسٹ کررہے ہیں اور 10 فیصد نجی شعبے کے ذریعہ ہورہے ہیں، صوبائی حکومت انہیں سبسڈی دے رہی ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وہ معاشی صورتحال سے آگاہ ہیں، جس کے تحت برآمدات کو روکا گیا ہے، مقامی مالی سرگرمیاں ختم ہوچکی ہیں اور کسی بھی گروتھ کی توقع نہیں کی جارہی ہے، ہم معیشت کو تو بحال کرلیں گے لیکن ہمارے پاس ان لوگوں کو بحالی کیلئے کوئی ٹیکنالوجی نہیں ہے جو وائرس کے خلاف اپنی جانیں گنوا چکے ہیں لہٰذا لوگوں کو بچانا اولین آپشن ہے۔

وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ لاک ڈاؤن کے بعد کے عرصے سے متعلق جو ایس او پیز تیار کئی گئی ہیں، اسے شیئر کریں تاکہ اس کا موازنہ صوبائی حکومت کی جانب سے تیار کردہ ایس او پیز کے ساتھ کیا جاسکے، صوبائی حکومت بھی مرکز کے ساتھ یہ سب شیئر کرے گی

Please follow and like us:

Corona Virus Current Status in Pakistan

Follow all SOP. Keep social distancing, Wear mask